اسرائیل دنیا بھر میں رسوائی کا سامنا کرنے پر پاکستان پر بھڑک اٹھا

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایلون پوشیز نے طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کا چیمپئن پاکستان عملی طور پر خود ایک شیشے کے محل میں رہتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی وزارت خارجہ کے سرکاری ٹویٹ کو ری شیر کیا جس میں لکھا تھا کہ آج مقبوضہ فلسطینی علاقے بشمول مشرقی یروشلم میں انسانی حقوق کی خوفناک صورتحال پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کا خصوصی اجلاس ہوگا۔
اجلاس سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خطاب کریں گے اور کمیشن کو پاکستان کی توقعات سے آگاہ کریں گے۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ انسانی حقوق کا چیمپئن پاکستان جو عملی طور پر شیشے کے محل میں رہتا ہے،مشرق وسطی کی واحد جمہوریت (اسرائیل ) کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے خصوصی سیشن میں تبلیغ کر رہا ہے، یہ منافقت کہ بدترین مثال ہے۔

۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے غزہ جنگ میں جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے اسرائیل کے خلاف پاکستان کی قرارداد منظور کرلی۔جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا اجلاس ہوا جس میں غزہ کے علاقے میں اسرائیلی بمباری کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم سے متعلق عالمی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کی قرارداد کو منظور کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں آزادانہ تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی قرارداد اسلامی ممالک کی تنظیم کے توسط سے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کے حق میں 24 ووٹ دیئے گئے اور مخالفت میں 9 ووٹ آئے۔ جبکہ بھارت سمیت دیگر 14 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔اسلامی تعاون تنظیم کے ایما پرپیش کی گئی قرارداد میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقے بشمول مشرقی بیت المقدس اور اسرائیل کے لیے فوری طور پر ایک خود مختار اور بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری قائم کرے. قرارداد کے مسودے میں کہا گیا کہ انکوائری کمیشن بین اقوامی قانون کے حوالے سے تمام مبینہ خلاف ورزیوں اور بدسلوکی کے واقعات کی تحقیقات کرے جس نے تازہ تشدد کو ہوا دی غزہ میں وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی سے پہلے جمعہ کے روزاسرائیلی فضائی حملوں اور غزہ پر گولہ باری کے نتیجے میں 253 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں66 بچے بھی شامل ہیں. 10 مئی کو شروع ہونے کے بعد 11 دن تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں 1900 لوگ زخمی ہوئے دوسری جانب غزہ سے کیے گئے راکٹ اور دوسرے حملوں میں12 ہلاکتیں ہوئیں جن میں ایک بچہ، ایک عرب اسرائیلی لڑکا ،ایک اسرائیلی فوجی،ایک بھارتی شہری اور تھائی لینڈ کے دو کارکن شامل ہیں حملوں میں اسرائیل میں تقریباً 357 افراد زخمی ہوئے. پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے کا دائرہ تازہ ترین لڑائی سے کہیں زیادہ وسیع ہے قرارداد میں زور دیا گیا ہے کہ باربار پھیلنے والی کشیدگی اور عدم استحکام بشول منظم امتیازی سلوک اور گروپ کی شناخت بنیاد پر جبر کی پس پردہ بنیادی وجوہات تلاش کی جائیں