ٹرین خراب ہونے کی نشاندہی روانگی سے قبل ہو گئی تھی، مسافر کے ہوشربا انکشافات

رات گئے گھوٹکی اسٹیشن پر کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس ٹریک پرموجود ملت ایکسپریس سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 100 افراد زخمی ہوئے، تاہم ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ٹرین میں سوار مسافروں کی جانب سے حادثے سے متعلق تہلکہ خیز انکشاف ہو رہا ہے۔
واقعے سے متعلق ایک عینی شاہد نے ہوشربا انکشاف کیے ہیں۔عینی شاہد نے بتایا کہ 10نمبر ملت ایکسپریس گاڑی میں کلمپ مرمت ہونے والا تھا،سٹیشن سے گاڑی روانہ ہونے سے قبل ان چیزوں کی جانب توجہ دلائی گئی تھی لیکن کسی نے بھی اس جانب توجہ نہ دی،اور کلمپ کو عارضی طور پر مرمت کرکے گاڑی چلا دی۔روہڑی سے آگے آکر گاڑی کو جھٹکا لگا اور گاڑی کا ڈبہ الٹ کر دوسرے ٹریک پر آ گیا۔
اس اثناء میں دوسری گاڑی سرسید ایکسپریس کے ہارن کی آواز آئی تو ہم لوگوں نے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا کہ اب ہم نہیں بچیں گے لیکن قدرت نے ہمیں بچا لیا۔دو بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔یاد رہے کہ رات گئے صوبہ سندھ کے شہر گھوٹکی میں ریلوے اسٹیشن پر ملت ایکسپریس کی بوگیاں الٹ کر دوسرے ٹریک پر جا گریں اور مخالف سمت سے آنے والی سرسید ایکسپریس بوگیوں سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 35 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 50 افراد زخمی ہوئے تاہم ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ترجمان ریلوے کے مطابق ٹرین حادثہ رات 3 بج کر 45 منٹ کے قریب ہوا، ملت ایکسپریس حادثے کے فوری بعد سرسید ایکسپریس ٹریک پر گری بوگیوں سے جا ٹکرائی، ملت ایکسپریس کے ڈرائیور کو کمیونیکیشن سسٹم دستیاب ہے، سرسید ایکسپریس نے ولہار سٹیشن کو 3 بج کر 25 منٹ پر کراس کیا، ملت ایکسپریس نے ڈہرکی کو 3 بج کر 30 منٹ پر چھوڑا، ماچھی گوٹھ سے ڈہرکی تک ٹریک بوسیدہ اور مرمت کرنے والا ہے۔
ٹرین حادثے کے ایک زخمی مسافر نے بڑا انکشاف کیا کہ ملت ایکسپریس کا کلمپ پہلے سے ہی ٹوٹا ہوا تھا، جس کا ریلوے حکام کو علم تھا، اسی وجہ سے ٹرین لیٹ ہوئی اور کراچی کینٹ سٹیشن پر کھڑی رہی ، مرمت کے بعد ٹرین روانہ کی گئی، تاہم ڈہرکی کے قریب اتنا بڑا حادثہ پیش آ گیا ، محکمہ ریلوے کے مطابق گھوٹکی ٹرین حادثہ کے بعد ادھر سکھر حادثے کے بعد ٹرینوں کو مختلف سٹیشنوں پر روک لیا گیا ہے