ٹرین حادثے کی انکوائری، کسی بڑے کی قربانی ہو گی

گھوٹکی ٹرین حادثے کی انکوائری ہو رہی ہے، کسی بڑے کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی رانا عظیم کا کہنا ہے کہ نواز شریف سمجھتے ہیں اگر پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی آتی ہے اور ن لیگ کی حکومت آ جائے تو پھر اسے کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔گھوٹکی ٹرین حادثے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرین حادثہ پر صبح سے لے کر شام تک صرف سیاست ہو رہی ہے،اس ٹریک کے حوالے سے باقاعدہ 13 نوٹس جاری ہوئے۔
ریلوے انتظامیہ کو سب کچھ معلوم تھا،اس حادثہ پر صرف وزیراعظم کی ٹیم کام نہیں کر رہی بلکہ دو اہم اداروں کی ٹیمیں بھی کام کر رہی ہیں۔اس حادثے کی بڑی اہم ذمہ دارن انکوائری کر رہے ہیں۔کسی بڑے کی قربانی ہی ہو گی۔
۔واضح رہے کہ سندھ کے ضلع گھوٹکی کے شہر ڈہرکی کے قریب گزشتہ روز پیش آنے والے ٹرین حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 65 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

گھوٹکی ٹرین حادثے کی ابتدائی رپورٹ بھی تیار کر لی گئی ہے ۔ جس میں کہا گیا کہ حادثہ اپ ٹریک کی پٹڑی کا ویلڈنگ جوائنٹ ٹوٹنے سے پیش آیا۔ پٹڑی کا جوائنٹ ویلڈنگ سے جوڑا گیا تھا جو ٹوٹا ہوا پایا گیا۔ جوائنٹ ٹوٹنے کے باعث ملت ایکسپریس کی 12 بوگیاں پٹڑی سے گر گئیں۔ سرسید ایکسپریس ڈاؤن ٹریک پر گری ہوئی کوچز سے ٹکرا گئی۔ حادثے کے باعث سرسید ایکسپریس کا انجن اور چار کوچز پٹڑی سے گر گئیں۔
ٹرینوں کے بلیک باکسز کا ڈیٹا بھی حاصل کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب گھوٹکی ٹرین حادثے کو 27 گھنٹے گزرنے کے باوجود ڈاﺅن ٹریک بحال نہ ہو سکا. ڈی ایس ریلوے کے مطابق اتوار اور پیر کو چلنے والی 30 سے زائد ٹرینیں مختلف اسٹیشنوں پر کھڑی ہیں، جس کے باعث مختلف اسٹیشنوں پر رکی ہوئی ٹرینوں کے مسافر رل گئے ہیں ایدھی ذرائع کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے 35 افراد کی میتوں کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے پنجاب کے مختلف شہروں، راول پنڈی، فیصل آباد، ملتان، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، لودھراں روانہ کیا گیا ہے ۔