لیگی رہنماء جاوید لطیف کی ضمانت منظور، عدالت نے رہا کرنے کا حکم دے دیا

عدالت نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء میاں جاوید لطیف کی ضمانت منظور کرلی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کی سیشن کورٹ کی جانب سے میاں جاوید لطیف کی ضمانت منظور کی گئی جس کے لیے مسلم لیگ ن کے رہنماء کو دو دو لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا گیا۔ دوسری طرف وفاقی حکومت نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء جاوید لطیف سے اپنے بیان پر غیرمشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا ، وفاقی ر وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جاوید لطیف ، الطاف حسین اور بی ایل اے کے بیانیہ میں کوئی فرق نہیں ، جاوید لطیف کے پاکستان نہ کھپے کے بیان کی مذمت خود شاہد خاقان عباسی نے بھی کی ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ جاویدلطیف اپنے بیان پر غیرمشروط معافی مانگیں ، کیوں کہ آئین کا آرٹیکل 5 شہریوں پر ریاست سے وفاداری کی لازمی شرط عائد کرتا ہے اس سے روگردانی کی اجازت نہیں ہے۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کو گرفتار کیا گیا ، سیشن کورٹ میں لیگی رہنما جاوید لطیف کے خلاف ریاست مخالف کیس کی سماعت ہوئی جس میں سرکاری وکیل نے ان کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی ، سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ جاوید لطیف کا متنازع بیان اپنے لیڈرکی محبت میں حدود سے تجاوز کے مترادف ہے، ان کے بیان کی سی ڈی کو فرانزک کے لیے بھجوادیا گیا ہے ، پراسیکیوشن کا کیس قانون کے تمام تقاضوں کے مطابق ہے، اس مرحلے پر جاوید لطیف کی ضمانت نہیں بنتی ، جب کہ جاوید لطیف کے وکیل نے کہا کہ مریم نوازکو قتل کرنے کے لیے سازش تیار کی گئی اس سازش کے تناظر میں جاوید لطیف نے یہ بات کی، سی آئی اے لاہور کیس دیکھ رہی ہے یہاں کسی دہشتگردکی ضمانت نہیں لگی، پولیس کے پاس ان معاملات پر ایف آئی آردرج کروانے کا اختیارہی نہیں ۔
عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جو کچھ دیر کے بعد ہی سنا دیا گیا تھا اور جاوید لطیف کی درخواست ضمانت خارج کر دی گئی ، جاوید لطیف عدالتی فیصلہ سننے سے پہلے ہی عدالت سے چلے گئے تھے، عدالت نے جاوید لطیف کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کی تو سی آئی اے نے مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف کو سگیاں پُل سے گرفتار کر لیا۔