گرمی کی شدت میں اضافہ،15جون سے موسم گرما کی تعطیلات کرنے پر غور

حکومت نے گرمی کی شدت بڑھنے اور سکولوں میں بچوں کی حالت غیرہونے کے واقعات پر موسم گرما کی تعطیلات پر غور شروع کردیا ہے، تعلیمی اداروں میں 15جون سے چھٹیوں کا امکان ہے، لاہور، اسلام آباد سمیت مختلف اضلاع میں شدید گرمی کے باعث معصوم بچے نڈھال اور بے ہوش ہونے لگے، جبکہ بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے جون کے سخت اورشدید گرمی کے مہینے میں سکول کھول تو دیے ہیں لیکن بچوں کا سکول جانا اور پھر آگ برساتی گرمی میں سکول سے واپس آنا محال ہوگیا ہے۔ بچے سکولوں میں گرمی کی شدت کے باوجود نہ صرف کلاسز میں بیٹھتے ہیں بلکہ گرم پانی پینے پر بھی مجبور ہیں، اکثر سکولوں میں گرمیوں کے پیش نظر بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں، واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہیں،جس سے طلبا میں پانی کی کمی کے مسائل بھی سامنے آرہے ہیں۔
اسی طرح کلاسز میں 50، 50 بچوں کا ایک ساتھ بیٹھنا مزید درجہ حرارت بڑھا دیتا ہے، اگر بجلی چلی جائے تو پسینے سے شرابور بچے گرمی سے نڈھال ہوجاتے ہیں، دیہاتی علاقوں میں تو بچوں کو ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں سکول جانے کیلئے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ روز لاہور کے گورنمنٹ جونیئرماڈل سکول ماڈل ٹاؤن میں بچوں کی نکسیر پھوٹ پڑی، جس پر اساتذہ نے ان کو طبی امداد دی، اسی طرح آج اسلام آباد میں بہارکوہ کے علاقے ملپور میں صبح سے بجلی نہ ہونے کے باعث گورنمنٹ فیڈرل اسکول میں 25 کے قریب بچے بےہوش ہو گئے، بچوں کو گرمی کی وجہ سے نکسیر آنا شروع ہو گئی تھی، بچوں کے سر پر پانی ڈال کر نکسیر کو روکنے کی کوشش بھی کی گئی، واپڈا کو اطلاع بھی دی گئی مگر بجلی بحال نہ ہو سکی، بچوں کو طبی امداد دینے کیلئے پاس کے اہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ۔
ذرائع ے مطابق اسکول میں کل بچوں کی تعداد 200 ہے، اسکول میں بجلی نہ ہونے کے باعث چھٹی دے دی گئی۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ گیا۔ گرمی کی شدت میں اضافہ سے بچے بھی بلبلا اٹھے۔ شدید گرمی سے اکثر سکولوں میں طلبا کی حالت غیر ہوگئی ۔ والدین نے گرمی کی شدت میں اضافہ پر شدید تحفظات کا اظہارکیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کو فی الفور نئی کتب اور ہوم ورک دے کر گرمی کی چھٹیاں دی جائیں تاکہ انہیں بڑے نقصان سے بچایا جاسکے۔
والدین کے مطالبے پر حکومت نے سکولوں میں جلد گرمیوں کی چھٹیوں پر غور شروع کردیا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ پہلی تا آٹھویں چھوٹی کلاسز کے بچوں کو چھٹیاں کردی جائیں اور بورڈ کے امتحانات دینے والے بچوں کو امتحانات کے بعد چھٹیاں دی جائیں۔