عمران خان کا امریکا کو اڈے دینے سے انکار ،سیاسی جماعتوں نے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا

دفاعی تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں آپ کو کچھ لوگوں کے امریکا وزٹ دیکھنے کو ملیں گے،کچھ لوگ امریکا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں ماریں گے کیونکہ عمران خان نے امریکا کو اڈے دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ہمارے کچھ سیاسی لوگ ایسے ہیں جن کے دل امریکا کے ساتھ دھڑکتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں ان کی خواہش امریکا ہی پوری کر سکتا ہے۔
تو جلد کچھ سیاسی لوگ امریکا سے دوبارہ بات کریں گے۔ماضی میں امریکا سے اس طرح کی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔پچھلے دنوں امریکا کے سی آئی اے کے سربراہ آئے تھے تاہم ان کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی،تاہم ان کی کچھ اور لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے اور اس کے بعد جو انہیں جواب ملا تو وہ یقینا کوئی اور راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔
جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان نے مزید کہا کہ عمران خان نے 2018ء میں مائیک پومیو سے بات کرنے سے انکار کر دیا تھا،عمران خان کو کہا گیا تھا کہ ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھ کر بات کی جائے تاہم انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں ہیڈ ٹیبل پر بیٹھوں گا۔

۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے دفای تجزیہ کار اعجاز اعوان کی جانب سے بتایا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے واضح کر دیا ہے کہ اب جو بھی بات ہوگی وہ براہ راست امریکی صدر سے ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکی سیکرٹری کا فون سننے سے معذرت کی گئی اور کہا گیا کہ پروٹوکول کے مطابق امریکی صدر خود ان سے رابطہ کریں۔ اعجاز اعوان کے مطابق عمومی طور پر پروٹوکول کے تحت کسی بھی اہم معاملے پر گفتگو کیلئے امریکی صدر خود وزیراعظم سے رابطہ کرتے ہیں، اسی لیے پیغام بھیجا گیا ہے کہ افغانستان سے انخلاء اور اس سے متعلقہ معاملات کیلئے امریکی صدر خود وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کر کے بات چیت کریں۔