ورثے میں 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ ملا، معیشت کو مستحکم بنیاد فراہم کردی گئی ہے.شوکت ترین

وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ ہمیں ورثے میں 20 ارب ڈالر کا کرنٹ ڈالر کا تاریخ خسارہ ملا، 25 ارب ڈالر کی درآمدات تھیں، اس عرصے کے دوران برآمدات میں منفی 0.4 فیصد جبکہ درآمدات کا اضافہ 100 فیصد اضافہ ہوا تھا. قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا یہ تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ہم معیشت کے بیڑے کو کئی طوفانوں سے نکال کر ساحل تک لے آئے ہیں، مشکلات تو درپیش ہیں مگر معیشت کو مستحکم بنیاد فراہم کردی گئی ہے.
انہوں نے کہا کہ ان مشکل حالات کا مقابلہ کیا اور کامیابی کی طرف گامزن ہیں، یہ کامیابی وزیراعظم کی مثالی قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھی انہوں نے کہا کہ ہمیں کون سے حالات ورثے میں ملے، یہ بات سب کو معلوم ہے کہ بہت زیادہ قرضوں کی وجہ سے ہمیں دیوالیہ پن کی صورتحال کا سامنا تھا. بجٹ تقریر پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں ورثے میں 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ ملا، 25 ارب ڈالر کی درآمدات تھیں، اس عرصے کے دوران برآمدات میں منفی 0.4 فیصد جبکہ درآمدات کا اضافہ 100 فیصد اضافہ ہوا تھا.
انہوں نے کہا کہ شرح سود کو مصنوعی طور پر کم رکھا گیا تھا اور تمام قرضے اسٹیٹ بینک سے لیے گئے جس کی وجہ سے مالیاتی حجم میں شدید عدم توازن پیدا ہوا، اسٹیٹ بینک سے قرضوں کا حجم 70 کھرب روپے کی خطرناک سطح تک پہنچ گیا وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.6 فیصد تھا جو گزشتہ 5 سالوں میں سب سے زیادہ تھا، بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر بڑی حد تک قرضے لے کر بڑھائے گئے تھے جو جون 2013 میں 6 ارب ڈالر تھے اور 2016 کے آخر میں بڑھتے ہوئے 20 ارب ڈالر ہوگئے تھے لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے آخری 2 سالوں میں بڑی تیزی سے کم ہوکر صرف 10 ارب ڈالر رہ گئے تھے، اس دور میں بیرونی قرضوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا تھا.
وزیر خزانہ نے کہا کہ مسلم لیگ کے آخری دو سال میں جون 2018 تک 10 ملین ڈالر رہ گئے اس دور میں بیرونی قرضے میں اضافہ ہوا انہوں نے کہا کہ یہ تباہی کی داستان ہے جس کے بعد معشیت کی بحالی کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوگی انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود 5.5 شرح نمو کا ڈھول پیٹا گیا اور بلا سوچے سمجھے قرضے لیے گئے. وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ ساری ادائیگیاں ہمیں کرنی پڑیں ورنہ ملک ڈیفالٹ کرجاتا انہوں نے کہا کہ ہم حقیقی منظر پیش کررہے ہیں، قبرستان میں کھڑے ہو کر قبروں کو کھودنے کے بجائے قوم کو روشنی کی طرف لے جایا جائے وزیر خزانہ نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے معیشت کی بحالی میں تھوڑا وقت لگا.
وزیرخزانہ کی بجٹ تقریرکے بنیادی نکات میںبتایاگیا ہے کہ وفاقی بجٹ کا حجم 8 ہزار 487ارب روپے رکھا گیا ہے،20 ارب کے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کو اپریل 2021ءمیں سر پلس کیا گیا۔
عمران خان کی قیادت میں معیشت کو کئی طوفانوں سے نکال کر ساحل تک لائے، احساس پروگرام کی نقد امداد میں اضافہ کیا، ہم استحکام سے معاشی نمو کی جانب گامزن ہوئے ہیں. حکومت ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے میں کامیاب ہوئی ہے، معاشی ترقی ہر شعبے میں ریکارڈ کی گئی ہے کپاس کے علاوہ تمام فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا سروسز شعبے میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے غربت میں کمی آئی.

کورونا وائرس کی تیسری لہر میں بڑے پیمانے پر کاروبار کی بندش سے اعتراض کیا، ماضی میں حکومت کو اس طرح کے برے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑاوزیرخزانہ نے کہاکہ فی کس آمدنی میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے، کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ کی جا رہی ہے، وفاقی سرکاری ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف فراہم کیا جائے گا، تمام پنشنرز کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا، اردلی الاﺅنس 14 ہزار روپے سے بڑھا کر ساڑھے 17 ہزار روپے کیا جا رہا ہے انہوں نے دعوی کیا کہ کورونا وائرس کی وباءکے باوجود فی کس آمدنی میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے اسی طرح اس سال ایکسپورٹ میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔ملک میں ٹیکسوں کی وصولی 4 ہزار ارب کی نفسیاتی حد عبور کر چکی ہے، ٹیکس وصولیوں میں 18 فیصد بہتری آئی ہے اسی طرح ٹیکس ری فنڈ کی ادائیگی میں 75 فیصد اضافہ کیا ہے، اس سال ایکسپورٹ میں شاندار نمو دیکھنے میں آئی.
انہوں نے بتایاکہ ترسیلاتِ زر میں 25 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، روپے کی قدر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح میں 17 فیصد سے ایک فیصد تک کمی کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 2018ءمیں ایک بہت برا چیلنج تھا اس پر قابو پالیا گیا ہے اوورسیز پاکستانیوں نے کھاتوں میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے . انہوں نے بتایاکہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ سرپلس ہو گیا ہے بیرونِ ملک سے ترسیلات میں اضافہ عمران خان کی قیادت پر اعتماد ہے ٹیلی مواصلات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 17فیصد سے 16 فیصد کمی کی تجویز ہے انہوں نے بتایاکہ بیرونِ ملک سے ترسیلات میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے گزشتہ سال کے مقابلے میں خام تیل کی قیمت میں 180 فیصد اضافہ ہواچینی کی سطح پر بین الاقوامی سطح پر 56 فیصد اضافہ ہوا، ملکی سطح پر چینی کی قیمت میں 18 فیصد اضافہ ہوا اگلے سال کیلئے معاشی ترقی کا ہدف 4.8 رکھا ہے.
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت مشکل فیصلے میں خوفزدہ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے 20 ارب کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کو اپریل 2019 کو 800 ملین ڈالر کا سرپلس میں تبدیل کردیا گیا وزیر خزانہ نے کہا کہ اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کی پالیسی اپنائی گئی انہوں نے کہا کہ ہم استحکام سے معاشی نمو کی طرف گامزن ہوئے ہیں. وزیر خزانہ نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے معاشی نمو میں ایک سال کی تاخیر ہوئی انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کورونا کی دو لہروں کا مقابلہ کرنا پڑا وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی ترقی کی شرح ہر شعبے میں ریکارڈ کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ کپاس کے علاوہ تمام دیگر زرعی اشیا کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ صنعتی ترقی بھی غیرمعمولی رہی وزیر خزانہ نے کہا کہ بڑے صنعت شعبے میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ماضی میں نمو منفی 10 تھی.
انہوں نے کہا ہم کورونا وبا کے پھیلاﺅ کو روکنے میں کامیاب رہے اگرچہ مارچ سے مئی کے دوران تیسری لہر کا سامنا کرنا پڑا لیکن کاروبار کی بندش سے گریز کیا انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ 20 لاکھ گھرانوں کی مدد کی گئی انہوں نے کہا کہ پہلے سال میں ایک کروڑ 15 لاکھ گھرانوں کو امداد دی گئی وزیر خزانہ نے کہا کہ فصلوں کی تاریخی پیداوار سے کسانوں کو 3 ہزار 100 ارب کی آمدنی ہوئی، جس سے آمدنی میں 32 فیصد اضافہ ہوا انہوں نے بتایا کہ لارج اسکیل مینوفیکچر کی نمو سے لوگوں کو چھینے ہوئے روزگار میں اضافہ ہوا کیونکہ ایک دہائی سے اس بہتری کی نظیر نہیں ملتی.
انہوں نے کہا کہ خدمات کے شعبے میں خاص طور ای کامرس سے آن لائن روزگار میں اضافہ ہوا، فی کس آمدنی میں کووڈ کے دوران 15 فیصد اضافہ ہوا ہے شوکت ترین نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں میں شاندار اضافہ ہوا، ٹیکس کی 18 فیصد زبردست وصولی ہوئی،اس کی وجہ معشیت کی رواں سال غیرمعمولی کارکردگی ہے، ٹیکس کی نفسیاتی حد 4 ہزار ارب روپے عبور کر چکی ہے انہوں نے کہا کہ برآمدات ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں، اس سال برآمدات میں شان دار نمو دیکھنے میں آئی اور14 فیصد اضافہ ہوا انہوں نے کہا کہ ادائیگیوں کے توازن میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے، 2019 میں فصلیں تباہ ہونے کی وجہ سے غذائی اجناس برآمد کرنا پڑا.
وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی ترقی کی شرح ہر شعبے میں ریکارڈ کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ کپاس کے علاوہ تمام دیگر زرعی اشیا کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ صنعتی ترقی بھی غیر معمولی رہی وزیر خزانہ نے کہا کہ بڑے صنعت شعبے میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ماضی میں نمو منفی 10 تھی. انہوں نے کہا ہم کورونا وبا کے پھیلاﺅ کو روکنے میں کامیاب رہے اگرچہ مارچ سے مئی کے دوران تیسری لہر کا سامنا کرنا پڑا لیکن کاروبار کی بندش سے گریز کیا انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ 20 لاکھ گھرانوں کی مدد کی گئی انہوں نے کہا کہ پہلے سال میں ایک کروڑ 15 لاکھ گھرانوں کو امداد دی گئی.
وزیر خزانہ نے کہا کہ فصلوں کی تاریخی پیداوار سے کسانوں کو 3 ہزار 100 ارب کی آمدنی ہوئی، جس سے آمدنی میں 32 فیصد اضافہ ہوا انہوں نے کہا کہ لارج اسکیل مینوفیکچر کی نمو سے لوگوں کو چھینے ہوئے روزگار میں اضافہ ہوا کیونکہ ایک دہائی سے اس بہتری کی نظیر نہیں ملتی انہوں نے کہا کہ خدمات کے شعبے میں خاص طور ای کامرس سے آن لائن روزگار میں اضافہ ہوا، فی کس آمدنی میں کووڈ کے دوران 15 فیصد اضافہ ہوا ہے.
شوکت ترین نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں میں شاندار اضافہ ہوا، ٹیکس کی 18 فیصد زبردست وصولی ہوئی،اس کی وجہ معشیت کی رواں سال غیرمعمولی کارکردگی ہے، ٹیکس کی نفسیاتی حد 4 ہزار ارب روپے عبور کر چکی ہے. انہوں نے کہا کہ برآمدات ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں، اس سال برآمدات میں شان دار نمو دیکھنے میں آئی اور14 فیصد اضافہ ہوا انہوں نے کہا کہ ادائیگیوں کے توازن میں کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے، 2019 میں فصلیں تباہ ہونے کی وجہ سے غذائی اجناس برآمد کرنا پڑا وزیر خزانہ نے کہ عالمی مارکیٹ میں گندم میں اضافہ ہوا، چینی کی قیمت میں عالمی سطح پر 56 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ملکی سطح پر 18 فیصد اضافہ ہوا انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کو غذائی اجناس میں خو¿د کفیل ہونا پڑے گا، یعنی زراعت میں کام کرنا پڑے گا اور آپ دیکھیں گے آئندہ اس پر کام ہوگا انہوں نے کہا کہ ہمیں انتظامی کنٹرول واپس لینا پڑے گا انہوں نے کہا کہ قرضوں میں اضافہ کووڈ کے دوران امدادی پیکج سے ہوا.
شوکت ترین نے کہا کہ صوبوں کے تعاون سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور فوڈ سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے جامع پلان ترتیب دیا گیا ہے وزیر خزانہ نے برآمدات میں اضافہ ادائیگیوں کے توازن میں جاری مسلسل بحران سے نکالنے اور بار بار آئی ایم ایف پروگرام کی طرف جانے سے بچنے کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے ہم اس سیکٹر کے لیے کافی مراعات کا اعلان کر رہے ہیں اور ایک ایسا پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں صنعتیں منتقل کی جائیں گی، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہوسکے گا.
شوکت ترین نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں کم از کم ایک کروڑ رہائشی مکانات کی کمی ہے، وزیراعظم کے ہاﺅسنگ اور تعمیرات پیکج سے اس شعبے میں بہت سی معاشی سرگرمیوں اور اس شعبے سے وابستہ صنعتوں کو فروغ ملا ہے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت اس پروگرام کے فروغ کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھارہی ہے، اس سلسلے میں پالیسی سازی اور اس کے نفاذ میں ربط کے لیے نیا پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی قائم کی گئی ہے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس اقدام کے تحت ہاﺅسنگ اسکیموں کے لیے ٹیکسوں میں رعایت کا ایک پیکج خاص طور پر واضح کیا گیا ہے، اس کے علاوہ حکومت کم آمدن والے افراد کو گھر بنانے میں مدد کے لیے 3 لاکھ روپے کی سبسڈی دے رہی ہے.
انہوں نے کہاکہ پاکستان میں پہلی بار مورٹگیج فنانسنگ شروع کی گئی ہے، تمام صوبائی حکومتیں اس اقدام میں معاونت کی غرض سے اراضی کا تعین اور ہاﺅسنگ منصوبوں کا آغاز اور نجی شعبے کی ہاﺅسنگ اسکیموں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے وزیر خزانہ نے کہا کہ بینک لوگوں کی رقوم کی فراہمی کے پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں اور اس ضمن میں بینکوں کو 100 ارب روپے کی فراہمی کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جس میں سے 70 ارب روپے کی فراہمی کی منظوری جاچکی ہے اور ادائیگی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے.
انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام کے لیے بجٹ 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب روپے کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ترقی بجٹ میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیاوزیر خزانہ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے تحت ہمارا وژن بہت سادہ ہے ہم زیادہ منافع بخش پروگرام میں سرمایہ کاری کریں گے. انہوں نے کہا کہ جس سے بود و باش میں بہتری آئے گی اور کرپشن کی حوصلہ شکنی ہوگی شوکت ترین نے فوڈ سیکورٹی کے حوالے سے کہا کہ ہماری حکومت نے زراعت کے شعبے کو غیرمعمولی ترجیح دی ہے انہوں نے کہا کہ امسال گندم، چاول، گندے میں بہت زیادہ پیداوار ہوئی وزیر خزانہ نے کہا کہ اسی وجہ سے نیشنل ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام کا اعلان کیا ہے.
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد لائیو اسٹاک اور زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مویشوی، ماہی گیری، آپباشی کے شعبے کا اعادہ کیا جائے گا جبکہ ہم نے اگلے سال زراعت کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے ہیں . انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل اور فوڈ سیکیورٹی پراجیکٹ کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تیزی سے پانی کی کمی کا شکار ہورہا ہے اور وزیراعظم عمران خان چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لیے خواہاں ہیںانہوں نے کہا کہ تین بڑے ڈیمز کی تعمیرات ہماری ترجیحات میں شامل ہوں گے جس میں داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ پہلے میں کے لیے 57 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے 23 ارب روپے جبکہ مہمند ڈیم کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ نیم جہلم پاور پراجیکٹ کے لیے 14 ارب روپے مختص کرنےکی تجویز کی گئی ہے.
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت 13 ارب ڈالر مالیت سے 17 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ 21 ارب ڈالر سے 21 منصوبے جاری ہیں انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ اسٹریجک نوعیت کے 26 منصوبے زیر غور ہیں جن کی مالیت 28 ارب ڈالر ہے وزیر خزانہ نے کہا کہ ایم ایل ون ایک اہم منصوبہ جس کی لاگت 9.3 ارب ڈالر ہے جسے تین مراحلے میں مکمل کیا جائے گا، پیکج ون کا آغاز مارچ 2020 شروع ہوچکا جبکہ پیکج ٹو جولائی 2021 اور پیکج تھری جولائی 2022 میں شروع ہوگا شوکت ترین نے کہا کہ ہم ساری کی ساری بجلی صارفین کو فراہم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں اس لیے ہماری سرمایہ کاری میں ترجیحات یہ ہوگی کہ اس چیلنج پر پورا اتریں.
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے بجٹ میں 118 ارب روپے مختص کیے ہیں وزیر خزانہ نے کہا کہ کراچی میں کے ون اور کے ٹو منصوبے اور تربیلا ہائیڈرو پاور پلانٹ کی پانچویں توسیع کے لیے 16 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت نے پسماندہ علاقوں کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکج شروع کیے ہیں اس مقصد کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں اور اس میں درجن منصوبے شامل ہیں.
اس سے قبل پیش کی گئی بجٹ دستاویز کے مطابق مالی سال 22-2021ءکے بجٹ کا حجم 8487 ارب روپے ، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5829 ارب روپے، نان ٹیکس ریوینیو کی وصولی کا ہدف 2080 ارب روپے، مجموعی ٹیکس اور نان ٹیکس ریوینیو کا ہدف7909 ارب روپے رکھا گیا ہے. دستاویز کے مطابق بینکنگ سیکٹر سے حکومت بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے 681 ارب روپے قرض لے گی، بینکنگ اور نان بینکنگ سیکٹر سے حکومت 1922 ارب روپے قرض حاصل کرے گی، وفاقی حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 7523 ارب روپے ہوگا ملکی و غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی پر 3060 ارب روپے خرچ ہوں گے، حکومت مجموعی طور پر 1246 ارب روپے مالیت کے غیر ملکی قرضے لے گی، نئے مالی سال میں حکومت 2417 ارب روپے مالیت کے ملکی قرضے حاصل کرے گی، عالمی مالیاتی اداروں سے 369 ارب روپے حاصل کیئے جائیں گے.
عالمی کمرشل بینکوں سے 877 ارب روپے حاصل کیئے جائیں گے، سول اور ملٹری کی مجموعی پینشن کا حجم480 ارب روپے ہوگا، دفاعی بجٹ کے لیے 1370 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں، صوبوں کی ترقیاتی اور غیر ترقیاتی گرانٹس کے لیے 1168ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں بجلی، گیس، کھانے پینے کی اشیاءسمیت تمام شعبوں کے لیے سبسڈی کا بجٹ 682 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، سول حکومت کے اخراجات کے لیے 479 ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں، کورونا وائرس کی وباءکی روک تھام اور دیگر ہنگامی اخراجات کے لیے 100 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں.
وفاقی بجٹ میں صوبوں کی ترقیاتی اور غیر ترقیاتی گرانٹس کے لیے 1168 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں ، بجلی، گیس، کھانے پینے کی اشیاءسمیت تمام شعبوں کے لیے سبسڈی کا بجٹ 682 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، سول حکومت کے اخراجات کے لیے 479 ارب روپے مختص کر دیئے گئے تنخواہوں اور دیگر مراعات کے لیے 160 ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں، ترقیاتی بجٹ کے لیے 964ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں، وفاقی سالانہ ترقیاتی پروگرام900ارب روپے ہوگا، صوبوں کو قرض کی مد میں 64ارب روپے ادا کیے جائیں گے قومی اداروں کی نجکاری سے نئے مالی سال میں252ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے، نئے مالی سال میں مجموعی اخراجات کا تخمینہ بھی8487ارب روپے ہوگا.