وفاقی بجٹ 2021-22کے نمایاں خدو خال

وفاقی بجٹ 2021-22کے نمایاں خدو خال میں بتایاگیا ہے کہ مجموعی ریونیو کا تخمینہ 7 ہزار 909 ارب روپے ہے جبکہ اس کے مقابلے میں گزشتہ برس نظر ثانی 6 ہزار 395 ارب روپے تھا وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ رواں برس گزشتہ تخمینہ سے 24 فیصد کا خاطر خواہ اضافہ ہے. انہوں نے کہا کہ ایف بی آر محاصل میں 24 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ہزار 691 ارب سے بڑھ کر 5 ہزار 829 ارب روپے کا اضافہ متوقع ہے انہوں نے کہا کہ نان ٹیکس ریونیو کی 22 فیصد بڑھنے کی توقع ہے، وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ 2 ہزار 704 ارب روپے سے بڑھ پر 3 ہزار 411 ارب روپے رہے گا.

انہوں نے بتایا کہ اس کا مطلب ہے صوبوں کو 25 فیصد زائد رقوم فراہم کی جائیں گی، اس کی وجہ سے صوبے، ترقی، صحت، بہبور، خواتین اور جوانوں پر خرچ کرنے کے قابل ہوں گے انہوں نے کہا کہ صوبوں کو ادائیگی کے بعد وفاق کے پاس مجموعی محاصل کاتخمینہ 4 ہزار 497 ارب روپے ہے جبکہ گزشتہ برس 3 ہزار 691 ارب تھا اور 22 فیصد کی عکاسی ہوتی ہے. انہوں نے بتایا کہ وفاقی اخراجات 8 ہزار 497 ارب روپے ہیں، جبکہ 7 ہزار 341 ارب روپے تھے، اس مد میں 15 فیصد کا اضافہ ظاہر ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ رواں اخراجات کا تخمینہ 6 ہزار 561 ارب سے بڑھ کر 7 ہزار 523 رہنے کی توقع ہے، جو 14 فیصد اضافہ ظاہر ہو رہا ہے شوکت ترین نے کہا کہ سود پر 12 فیصد اخراجات مقرر کیا گیا ہے، سبسڈیز کا تخمینہ 682 ارب روپے لگایا گیا ہے، جن میں 403 ارب روپے کا اضافہ ہوا.
انہوں نے کہا کہ رواں برس 2021-22 کے مجموعی بجٹ کا خسارہ 6.3 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ اس مقابلے میں نظر ثانی تخمینہ کے مطابق 7.1 فیصد ہے پرائمری خسارے کا ہدف 0.7 فیصد ہے جو رواں سال کے 1.2 فیصد لگایا گیا ہے، تین سال میں 3.2 فیصد کی مجموعی کمی لانے میں حکومت کامیاب ہوگئی ہے جو 2018 میں3.8 فیصد تھا. اگلے برس کے اخراجات پر بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ویکسین کے لیے 1.1 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے، جون 2022 تک 10 کروڑ لوگوں کو ویکسین دینا ہے انہوں نے بتایا کہ صحت انشورنس پروگرام نے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے، ایس ایم ایز کو کاروبار میں بلا ضمانت قرضوں کی فراہمی کے لیے 12 ارب مختص کیے گئے ہیں، جس میں مختلف اسکیمیں تجویز کی گئی ہیں.
شوکت ترین نے کہا کہ کامیاب پروگرام میں 10 ارب، اینٹی ریپ فنڈ میں 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ہائرایجوکیشن کو 66 ارب روپے کی رقم مہیا کرنے کی تجویز ہے، ترقیاتی بجٹ کے لیے 44 ارب فراہم کیے جائیں گے بعد ازاں اس میں 15 ارب کا اضافہ کردیا جائے گا. انہوں نے کہا کہ برامدات میں اسکیموں کے تحت تعاون کا عمل جاری رہے گا، سرکاری اداروں پی آئی اے، اسٹیل مل وغیرہ کو 2016 ارب کی مدد دی جائے گی انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے لیے 56 ارب سے بڑھا کر 60 ارب، گلگت بلتستان کو بجٹ کے لیے کے لیے 32 ارب سے بڑھا 47 ارب کی تجویز ہے.
بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کی طلب کو پورا کرنے کے لیے آبی وسائل میں بہتری ہمارا نصب العین ہے، جس کے لیے ساڑھے 19 ارب روپے رکھا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کے پی ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے 54 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن میں 30 ارب روپے اگلے 10 سالہ ترقی منصوبے کے ہیں. انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارنٹرشپ پر حکومت یقین رکھتی ہے، اتھارٹی کے پاس مختلف مراحل میں 50 منصوبے موجود ہیں جن کی مجموعی لاگت 2 ہزار ارب روپے، جس میں ریل، صحت، لاجسٹک اور دیگر منصوبے شامل ہیں.
انہوں نے کہا کہ 710 ارب روپے کے مزید 6 منصوبے رواں سال شروع ہوں گے، جس کے لیے حکومت وائبلیٹی فنڈز کی مد میں 61 ارب روپے ادا کرے گی انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بلین ٹری سونامی منصوبہ ہے، اور مالی سال میں 14 ارب روپے مختص کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ سماجی شعبے میں وزیراعظم ترجیح دیتے ہیں، اس میں صحت، تعلیم، پائیدار ترقی کے اہداف، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر شعبہ جات ہیں اور اس مد میں 118 ارب روپے کے فنڈ مختص کر رہے ہیں.