وزیراعظم کی مخالفت، حکومت کا فون کالز،ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس لاگو نہ کرنے کا فیصلہ

حکومت نے فون کالز،ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس لاگو نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر خزانہ شوکت ترین کا اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا ہے کہ موبائل فون کالز،ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ کے ریٹ میں اضافہ نہیں کر رہے۔موبائل فون کالز،ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ ہر ٹیکس لاگو نہیں ہو گا بجٹ میں اس کی تجویز دی گئی تھی تاہم کابینہ نے ل فون کالز،ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ کے ریٹس میں اضافے کی منظوری نہیں دی۔
تین منٹ کی کال پر ایک روپے،ایس ایم پر 10پیسے اور ایک جی بی انٹرنیٹ ڈیٹا پر 5 روپے بڑھانے کی تجویز دی تاہم کابینہ اور وزیراعظم نے اس کی مخالفت کی تھی۔،انہوں نے مزید کہا کہ زراعت بڑھانے تک خوراک میں خودکفیل نہیں ہوں گے۔
وسائل بینکوں کے پاس ہوتے ہیں،حکومت کے پاس فسکل اسپیس نہیں ہوتی،اخوت نے ڈیڑھ سو ارب روپے کے قرضے دئیے۔ہول سیل فناسنگ کمرشل بینکس سے کردار ادا کر رہے ہیں۔

اربن ایریاز کے میں خاندان کے ایک فرد کو 5 لاکھ کا بلا سود قرضہ دیا جائے گا۔ اپنی چھت کے لیے 20لاکھ تک قرضہ فراہم کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہماری بات چیت جاری ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ روز گروتھ والا بجٹ پیش کیا گیا ہے اور بجٹ میں غریب عوام کا احساس کیا گیا انہوں نے کہا کہ ملک کے 40 لاکھ غریب خاندانوں تک سستے قرضے پہنچائیں گے جبکہ اخوت اور احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں کو 3 لاکھ روپے تک کے قرضے دیں گے. انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس فسکل اسپیس نہیں ہوتی، کمرشل بینک غریب عوام اور چھوٹے کاشتکاروں کے ساتھ ڈیل کرنا نہیں جانتے ملک کے ذرائع بینکوں کے پاس ہوتے ہیں حکومت کے پاس نہیں اور کمرشل بینک کبھی عام آدمی اور کاشتکار کے قریب نہیں ہوتے وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں شرح نمو 3 اعشاریہ 94 فیصد مقرر کرنے کا ہدف ہے اپریل 2021 میں 800 ملین ڈالر سرپلس تھا. شوکت ترین نے کہا کہ ہم ہر خاندان کو اپنی چھت دیں گے، اس کی حد 20 لاکھ روپے تک ہے کیونکہ شہری علاقوں میں زمینیں مہنگی ہیں‘انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ جب غریب کے گھر کوئی بیمار ہوجاتا ہے تو انہیں علاج کے لیے پیسوں کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور انہیں اپنی چیزیں بیچنی پڑ جاتی ہیں تاہم صحت کارڈ سے ان کے مسائل کا حل ہوگا. انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اِسکل ڈیویلپمنٹ پر کام کریں تاکہ غریبوں کو روزگار مل سکے‘انہوں نے کہا کہ حکومت نے معاشی نمو کو سب تک منتقل کیا ہے اور اس بجٹ میں پی ایس ڈی پی، صنعتوں زراعت وغیرہ سب کو مراعات دی ہیں تاہم اب ہمارا چیلنج مستحکم نمو لانا ہے.