وفاقی بجٹ میں 383 ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد کر دئے گئے

گذشتہ روز قومی اسمبلی میں اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف نے اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال کے بجٹ میں جہاں عوام کو ریلیف دیا گیا وہیں دوسری جانب 383 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز بھی عائد کیے گئے ہیں جن میں سے 70 فیصد ایسے رجعت پسند ٹیکسز شامل ہیں جن کے نتیجے میں مہنگائی کے بڑھنے کے خدشات بھی ہیں۔
حکومت نے خام تیل کی درآمد پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جس سے 38 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول ہوگا۔ بجٹ دستاویز کے مطابق حکومت نے تقریبا تمام اشیائے صرف پر نئے ٹیکسز عائد کیے یعنی چینی پر اب ریٹیل سطح پر نیا ٹیکس عائد کیا گیا جس کے نتیجے میں چینی کی قیمت میں فی کلو 7 روپے اضافہ ہوگا جبکہ صنعت کاروں اور اسٹاک مارکیٹ سے وابستہ افراد پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ۔
میڈیا بریفنگ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبران لینڈ ریونیو پالیسی چودھری محمد طارق کا کہنا تھا کہ حکومت نے 383 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے ۔ اسی طرح حکومت نے انکم ٹیکس کے حوالے سے 116 ارب روپے کے اضافی ٹیکیس بھی تجویز کیے جبکہ 58 ارب روپے کا ٹیکس استثنٰی بھی دیا جس کا مطلب ہے کہ انکم ٹیکس کے حوالے سے اضافی آمدنی 58 ارب روپے رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح حکومت نے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں اضافی 215 ارب روپے محصولات کا ہدف رکھا ہے جبکہ جی ایس ٹی کی مد میں 19 ارب روپے کا استثنٰی بھی دیا جارہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 5 کھرب 829 ارب روپے ٹیکس محصولات کا ہدف مقرر کیا ہے جو رواں مالی سال کے ہدف کے مقابلے میں 24 فیصد زائد ہے۔
حکومت نے نئی سرمایہ کاری پر دیے جانے والے ٹیکس استثنا کو ختم کردیا ہے جس کے نتیجے میں سے 65 ارب روپے کی اضافی ٹیکس آمدنی ہوگی۔ مزید برآں 50 لاکھ روپے مالیت سے زائد کی غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر عائد کیپٹل گین ٹیکس برقرار رہے گا جس کے نتیجے میں حکومت کو 2 ارب روپے اضافی امدنی ہوگی۔ اسی طرح بجلی کے بل جن کی مالیت 25 ہزار روپے سے زائد ہوگی اور ایسے افراد جو ٹیکس فائل نہیں کرتے ان پر 7 اعشاریہ 5 فیصد کے تناسب سے انکم ٹیکس عائد کیا جائے گا۔