متحدہ اپوزیشن کا اسپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ

متحدہ اپوزیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کرلیا، متحدہ اپوزیشن نے مشترکہ بیان میں کہا کہ گزشتہ روز جمہوریت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، اسپیکر قوی اسمبلی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے۔ تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے اپوزیشن رہنماؤں کی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کمیٹی کے لیے تمام جماعتوں کی مشاورت سے نام شامل کیے جائیں گے۔
کمیٹی کو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے حوالے سے ٹاسک دیا جائے گا، متحدہ اپوزیشن نے مشترکہ بیان میں کہا کہ گزشتہ روز جمہوریت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، اسپیکر قوی اسمبلی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے۔
اسپیکر ایوان میں ہر رکن کا محافظ اور نگہبان ہوتا ہے، لیکن اسپیکر اس فرض کو نہیں نبھا سکے۔

اسی طرح اسپیکر کی جانب سے 7 ارکان اسمبلی پر پابندی لگانے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں۔ واضح رہے گزشتہ روزقومی اسمبلی میں وزراء اور حکومتی اراکین نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر کے دور ان شدید احتجاج، نعرے بازی اور خوب شور شرابہ کیا، حکومتی رکن علی نواز اعوان نے بجٹ دستاویز لیگی رہنما روحیل اصغر کو دے ماری ، دونوں کے درمیان سخت جملوں اور گالم گلوچ کا تبادلہ بھی ہوا، اپوزیشن اراکین نے شہباز شریف کی تقریر کے دوران ان کے گرد حفاظتی حصار بنائے رکھا، حکومت اور اپوزیشن ارکان نے ایک دوسرے کے خلاف جملے بازی کی، نعرے لگائے اور گالم گلوچ بھی کی۔
مزید برآں اپوزیشن جماعتوں نے 10 جون کو بھی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی، ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکرکے رویے کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی ہے۔تحریک عدم اعتماد پر تمام اپوزیشن جماعتوں کے دستخط موجود ہیں، ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد قواعدوضوابط کے رول12کے تحت جمع کروائی گئی، تحریک عدم اعتماد کے ڈرافٹ میں مئوقف اختیار کیا گیا کہ اپوزیشن کو عوام کی نمائندگی کرنے اور بولنے کے حق سے محروم کیا گیا، ڈپٹی اسپیکر نے 10جون کے سیشن کے دوران قواعدوضوابط اور جمہوری اقدار کو پامال کیا ، ڈپٹی اسپیکر نے 11مرتبہ حکومت کی طرفداری کی۔
اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پراسپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا اور اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان نے بھی منظوری دی۔اسپیکر کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک سپیکر چیمبر میں جمع کروائی گئی۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیپلزپارٹی کی مشاورت سے لائی جارہی ہے، پیپلزپارٹی چاہتی ہے حکومت کو ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے گھر بھیجا جائے۔