حکومت 383 ارب روپے کے مزید ٹیکسز کا بوجھ ڈالنے جارہی ہے، شہبازشریف

قائد حزب اختلاف اور صدر مسلم لیگ ن میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ حکومت نے کہا ٹیکس نہیں لگائیں گے لیکن 383 ارب روپے کے مزید ٹیکس لگائے جارہے ہیں، انکم پر 120ارب روپے کے مزید ٹیکس لگنے جارہے ہیں، خام تیل اور ایل این جی پر 17فیصد ٹیکس لگایا جارہا ہے، حکومت ٹیکس لگا کر کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ 3 سالوں میں دو کروڑ سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔
انہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے وزیراعظم کی منظوری سے11 لاکھ ٹن چینی برآمد کی،چینی برآمد کرنے پراربوں روپے سبسڈی دی گئی، نوازشریف دورمیں سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات تھیں، آج ماڈرن ہاؤسنگ اسکیموں کو 50 لاکھ گھروں میں شامل کیا جارہا۔
پی ٹی آئی حکومت آتے ہی جی ڈی پی ایک سے بھی کم سطح پرآگئی، مزدور کی تنخواہ 3 سال میں 18 فیصد کم ہوچکی، ہمارے دور میں پنجاب میں 10سال میں لاکھوں اساتذہ بھرتی ہوئے۔

ہم نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششیں کیں، ہم نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بہت قربانیاں دیں۔ چور چور کے نعرے لگانے سے ترقی نہیں ہوتی، ہمارے دور میں عمران خان کو منانے کی کوشش کی گئی۔ وزیرخزانہ نے کہا نیا ٹیکس نہیں لگے گا لیکن 383 ارب روپے کے ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔ انکم پر 120ارب روپے کے مزید ٹیکس لگنے جارہے ہیں، خام تیل اور ایل این جی پر 17فیصد ٹیکس لگایا جارہا ہے، حکومت ٹیکس لگا کر کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ تین برسوں میں دو کروڑ سے زائد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔آج جتنی بھرتیاں ہورہی ہیں اس سے تجوریاں بھری جارہی ہیں، ہم نے لاکھوں بھرتیاں کیں، ایک ڈنڈی ثابت ہوجائے آپ کا ہاتھ میرا گریبان ہوگا۔