’’لوگوں کے پاس گاڑیاں ہیں، پکے مکان اور اچھا رہن سہن ہے، بتائیں کہاں غربت ہے‘‘

لوگوں کے پاس گاڑیاں ہیں، پکے مکان اور اچھا رہن سہن ہے، بتائیں کہاں غربت ہے، ہمارے صوبے میں کوئی کچا گھر دکھا دیں، پھر کہوں گا ملک پیچھے جا رہا ہے، وزیردفاع پرویز خٹک نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو مناظرےکا چیلنج دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اسب سرکاری نوکری کرنا چاہتے ہیں کوئی محنت نہیں کرنا چاہتا،ملک میں لوگوں کے پاس گاڑیاں ہیں اچھا رہن سہن ہے،بتائیں کہاں غربت ہے، ہمارے صوبے میں کوئی کچا گھر دکھا دیں، پھر کہوں گا ملک پیچھے جا رہا ہے۔
شہباز شریف کو مناظرے کا چیلنج دیتا ہوں، پنجاب میں ان کی 20 سال کی کارکردگی کا خیبر پختونخوا ( کے پی) میں ان کے 5 سال اور موجودہ کے پی حکومت کے 3 سال سے موازنہ کرلیں۔
پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی کارکردگی اچھی ہوتی تو پنجاب انہیں مسترد نہیں کرتا، انہیں ایسی شکست دی ہےکہ ساری زندگی یاد رکھیں گے ۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ جب ہم آئے تو 5 ارب ڈالر تھے اس سے ملک ایک ماہ بھی نہیں چل سکتا تھا،اس وقت قومی خزانے 25 ارب ڈالرکے ذخائر موجود ہیں۔

وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ ملک قرض دار نہ ہوتا تو آئی ایم ایف کے پاس نہ جاتے، دو سال بعد دیکھیں گےکہ قرضوں اور آئی ایم ایف سے جان چھوٹے گی،ان کے دور میں کارخانے بند تھے ، ہماری حکومت نے انہیں مراعات دیں تو معیشت کا پہیہ چل پڑا، ان کو عوام کی کوئی فکر نہیں تھی یہ تو حکومت میں مزے لینے آئے تھے۔پرویز خٹک کے غربت سے متعلق جملوں پر حکومتی اراکین نے قہقہے لگائے، ایک حکومتی رکن کا کہنا تھا کہ کرک میں غربت ہے، جس پر پرویز خٹک نےکہا کہ وہاں ہو گی باقی ملک میں کوئی غربت نہیں،عمران خان کے صحیح فیصلوں سے ملک کی معیشت بہتر ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زراعت کو جتنی مراعات اس حکومت نے دی کیا پہلےکسی حکومت نے دی؟ مجھ پر بھی پانچ سال تنقید کی گئی، دو سال اور تنقید کریں گے، ہم پرتنقید کرتے ہیں جیسے ان کے دور میں دودھ شہد کی نہریں بہتی تھیں۔دوسری طرف وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے بجٹ پر مسلم لیگ ن کے رہنماء و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو مناظرے کا چیلنج دے دیا، انہوں نے کہا کہ بجٹ میں خامیاں ہوسکتی ہیں،لیکن شوکت ترین جھوٹ نہیں بولتا، گھوڑا بھی ہے میدان بھی ہے، کسی بھی فورم پرآکرمیرے ساتھ مناظرہ کرلیں ، میں شاہد خاقان عباسی کو جواب دوں گا اور ضرور دوں گا ، میں ان لوگوں کے ساتھ کافی عرصہ کام کیا ہے، اگر پروگرام دیکھ رہے ہیں تو سنیں۔