مودی کی پالیسیوں سے بھارتی معیشت تباہی کے دہانے پرپہنچ گئی‘خطے کی بڑی اقتصادی طاقت بننے کا خواب چکنا چور

کورونا وائرس پر قابو پانے میں ناکامی پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو جہاں ملکی و بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا وہیں نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی عوامی مقبولیت میں کمی آئی ہے ‘کورونا کے دوران مودی سرکار کے اقدامات سے بھارت کی شرح نمو 40سالوں کی بدترین سطح پر آگئی ہے بھارت کے سرکاری ادارے نیشنل اسٹیٹسٹکل آفس (این ایس او) نے پنی رپورٹ میں بتایا کہ 21-2020 کے دوران اقتصادی شرح نمو میں ایک اعشاریہ چھ فی صد کا اضافہ ہوا.

تاہم پورے مالی سال کے دوران ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں منفی7 اعشاریہ3 فی صد کی کمی ریکارڈ کی گئی بھارت کے اقتصادی ماہرین کے مطابق چوتھی سہ ماہی میں 1.6 فی صد کی شرح نمو سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملکی معیشت بہتر نہیں ہے اور اگر اسے جلد بہتری کی جانب نہیں لے جایا گیا تو اس میں مزید ابتری آ سکتی ہے. بنگلور کی عظیم پریم جی یونیورسٹی کے ایک مطالعے کے مطابق گزشتہ برس کورونا کی پہلی لہر کے دوران 23 کروڑ بھارتی شہری غربت میں چلے گئے تھے مطالعے نے 375 روپے یومیہ سے کم میں زندگی گزارنے والوں کو غریب مانا ہے.
بھارتی معیشت کی نگرانی کرنے والے ادارے ”سینٹر فار مانیٹرنگ دی انڈین اکانومی“ کے مطابق کورونا کی دوسری لہر کے دوران نافذ کیے جانے والے لاک ڈاﺅن کی وجہ سے 73 لاکھ افراد نے صرف اپریل میں اپنا روزگار گنوا دیا. رپورٹس کے مطابق غیر منظم شعبے کے 90 فی صد کارکنوں کو حکومت کا کوئی مالیاتی تحفظ حاصل نہیں ہے اور لاکھوں افراد حکومت کے راشن کے حق دار نہیں ہیں سال2020 پورے ملک میں بغیرکسی منصوبہ بندی کے اچانک لاک ڈاﺅن کیا گیا تھا جس کی وجہ سے کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے تھے اور معیشت کو بڑا دھچکہ لگا تھا تو حکومت نے 20 لاکھ کروڑ روپے کے اقتصادی پیکج کا اعلان کیا تھا بھارت میں غربت کی شرح کے مقابلے میں یہ رقم ناکافی تھی.
ماہرین کا ماننا ہے کہ مودی سرکار کی جانب سے 2020میں بغیرکسی منصوبہ بندی سے اچانک لاک ڈاﺅن کا فیصلہ کرنے سے کروڑوں لوگوں نے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کیا جو وبا کے پھیلاﺅ کا باعث بنا بھارتی ماہرین اسے مودی حکومت کی نااہلی اور نالائقی قراردیتے ہیں وزارتِ تجارت نے8 اہم صنعتوں کے پیداواری اعداد و شمار جاری کیے تھے جن کے مطابق مذکورہ صنعتوں کی پیداوار میں منفی 15.1 فی صد تک گراوٹ آئی ہے ملکی کی معاشی حالت کے پیش نظراسٹیٹ بینک آف انڈیا نے مالی سال 22-2021 کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 10.4 فی صد کی شرح نمو کے اندازے کو کم کر 7.3 فی صد کر دیا تھا.
ایک طرف موودی حکومت میں بھارت معاشی تباہی کا شکار ہے تو دوسری جانب سیاسی طور پر بی جے پی کے تین دہائیوں کے راج میں عوامی مقبولیت کے لحاظ سے انتہائی نچلی سطح تک جاپہنچی ہے حال ہی میں امریکہ کی ڈیٹا انٹیلی جنس کمپنی”مورننگ کنسلٹ“ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اگست 2019 کے بعد سے مودی کی مقبولیت کم ترین سطح پر آگئی ہے اور انہیں 63 فی صد رائے دہندگان کی پسندیدگی حاصل ہو سکی جبکہ اپریل2021 میں ان کی مقبولیت میں 22 پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے.
بھارت کی پولنگ ایجنسی ”سی ووٹر“ کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ نریندر مودی کی کارکردگی پر ”بہت زیادہ مطمئن“ ہونے کا جواب دینے والوں کی شرح ایک سال کے دوران 65 فی صد سے 37 فی صد پر آگئی ہے جس کی ایک بڑی وجہ امداد کی تقسیم میں بی جے پی اور آرایس ایس کے راہنماﺅں کی بڑے پیمانے پر کرپشن اور اقربا پروری ہے بی جے پی کے کارکنوں میں بھی مودی سرکار کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں کیونکہ ان کا الزام ہے کہ ملک بھر میں بی جی پی اور آرایس ایس کے راہنماﺅں نے لاک ڈاﺅن کے دوران ان کا خیال نہیں کیا اور مصیبت میں انہیں تنہا چھوڑکر اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں کو نوازتے رہے جبکہ پارٹی کے عام کارکنوں کو کچھ بھی نہیں ملا.
ریاست اترپردیش میں پارٹی سرگرم کارکن پاسی پارٹی کی قیادت سے سخت ناراض ہیں ان کا کہنا ہے کہ میری بیوی کو کورونا وائرس ہوا مگر مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی پاسی اپنے سیاسی روابط کے باوجود کوئی مدد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے بی جے پی کے ضلعی صدر آنند اوستھی کا کہنا ہے کہ انہیں پاسی کی بیوی کی ہلاکت کا علم ہے پارٹی انہیں مالی امداد دلوانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن حکومتی ریکارڈ سے یہ ثابت ہونا باقی ہے کہ پاسی کی بیوی کو کورونا وائرس تھا یا نہیں پاسی عوامی سطح پر کام کرنے والے بی جے پی کے ان درجن سے زائد کارکنان میں شامل ہیں جنہوں نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ وہ کورونا وبا پر قابو پانے سے متعلق حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں.
اس کے علاوہ ریاست اتر پردیش اسمبلی کے6 ارکان نے اپنے حلقوں میں مدد کی اپیلوں کی شنوائی نہ ہونے پر خط لکھے ہیں جن میں حکومت پر تنقید کی گئی ہے بی جے پی کے قومی سطح کے ممتاز عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ بنیادی طبی سہولیات کی عدم فراہمی، لاک ڈاﺅن سے متعلق غیر واضح پیغامات، ادویات اور آکسیجن کی قلت جیسے مسائل کی وجہ سے لمبی چھٹی پر جا رہے ہیں حکمران جماعت بی جے پی ایک وسیع تنظیمی ڈھانچا رکھتی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ ملک میں اس کے 15 کروڑ فعال کارکن ہیں مگرسات سالہ دور اقتدار میں نریندر مودی کی پارٹی پر گرفت اتنی مضبوط ہوچکی ہے اور ان کے خلاف بات کرنا آسان نہیں مودی کے خلاف بولنے والوں سے آرایس ایس کے مسلح غنڈے ”نمٹتے“ہیں جنہیں وزیراعظم کے دفتر سے براہ راست احکامات ملتے ہیں.
امریکی نشریاتی ادارے نے اس معاملے پر بی جے پی کے ہیڈ کوارٹر اور وزیر اعظم کے دفتر سے ردعمل دینے کے لیے درخواست کی لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیابی جے پی کے نو جنرل سیکرٹریوں میں سے ایک کیلاش وجے ورگیا کا کہنا ہے کہ حالات سب کے لیے مشکل تھے اور ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے کارکنوں نے بھی اپنے پیاروں کو کھویا ہے کئی جگہوں پر ہم نے ایک دوسرے کی مدد کی اور ایسا وقت بھی آیا کہ مدد نہیں کرسکے کیوں کہ صورتِ حال بہت مشکل تھی.
مبصرین کا کہنا ہے کہ وبا سے نمٹنے کی حکومتی کارکردگی پر عوامی غضب اور پارٹی کے اندر بڑھتا ہوا عدم اطمینان بی جے پی کے لیے اگلا سیاسی امتحان ثابت ہوسکتا ہے اس سلسلے میں آئندہ برس بھارت کی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے ریاستی انتخابات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے جہاں اس وقت بی جے پی کی حکومت ہے. ماضی میں بی جے پی کو عوامی سطح پر رائے دہندگان کو متحرک کرنے والے پاسی جیسے عام کارکنان کی وجہ سے کامیابی حاصل ہوتی رہی ہے ایسے کارکنان اپنے علاقوں میں رہنے والے رائے دہندگان کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور انہیں ووٹ دینے پر قائل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں سیاسیات کے سابق پروفیسر اور زیادہ تر بی جے پی پر لکھنے والے تجزیہ کار سہاس پلشکر کا کہنا ہے کہ اگر ووٹرز کو بھرپور انداز میں متحرک نہیں کیا گیا تو ایسے حلقوں میں بی جے پی کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں شکست یا فتح کا فرق بہت کم رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کے انتخابات میں ابھی چھ ماہ باقی ہیں جو سیاست میں بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے.
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت میں آئندہ عام انتخابات 2024 میں ہوں گے لیکن اگلے سال اتر پردیش کے انتخابات میں اگر بی جے پی اچھے نتائج نہیں لاسکی تو یہ پارٹی کے لیے بڑا دھچکا ہوگا اور یہ آئندہ قومی انتخابات پر اثراندازہونگے بھارت میں ہندی کے بڑے اخبار ”دینک بھاسکر“ کے مدیر اوم گوڑ کا کہنا ہے کہ بھارت کی 28 میں سے 12 ریاستوں سے آنے والی فیلڈ رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس میں حکومت کی کارکردگی نے بی جے پی کی مقبولیت کو بری طرح متاثر کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سات برسوں میں وزیر اعظم مودی کو اتنے کڑے وقت کا سامنا نہیں رہا پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے مودی کے انتہائی وفادار اور مذہبی و قوم پرستی کی بنیادوں پر ان کی حمایت کرنے والے بھی بحران میں ان کی اہلیت پر سوال اٹھا رہے ہیں.
ادھربرطانیہ کی ایک مالیاتی فرم ”برکلیز“ نے اندازہ لگایا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے بھارت کی معیشت کو 74 ارب ڈالر یا مجموعی قومی پیداوار کا 2.4 فی صد کا نقصان ہو سکتا ہے جبکہ مودی حکومت کے اعلیٰ اقتصادی مشیر کے وی سبرامنین نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کا ملکی معیشت پر بہت زیادہ اثر پڑنے کا امکان کم ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ آگے جا کر شرح نمو کی رفتار تیز کرنے کے لیے مالی معاونت کی ضرورت ہوگی ان کے خیال میں یہ قیاس آرائی کرنا مشکل ہے کہ کیا رواں مالی سال کے لیے دوہرے شرح نمو کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے ان کے مطابق کورونا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مقامی اور ریاستی سطح پر لاک ڈاﺅن کی وجہ سے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں شرح نمو میں کمی دیکھی گئی ہے.