امریکا کے بعد یورپی یونین نے بھی چین کے مقابلے میں عالمی منصوبے کا اعلان

امریکا کے بعد یورپی یونین نے بھی چین کے ”بیلٹ اینڈ روڈ“منصوبے کے مقابلے میں اپنے منصوبے کا اعلان کردیا ہے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے اجلاس میں انفراسٹرکچر کا ایک بڑا منصوبہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے جو یورپ کو دنیا سے جوڑے گا یورپی یونین اپنے اس منصوبے پر 2022 سے کام شروع کرنے کی خواہاں ہے.
برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جرمن وزیرخارجہ ہائیکو ماس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ چین دنیا بھر میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے معاشی اور اقتصادی ذرائع استعمال کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ اس بارے میں شور کرنا بے کار ہے بلکہ ہمیں اس کا متبادل پیش کرنا چاہیے. خیال رہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے یورپ اور ایشیا کو ملانے کے منصوبے ”بیلٹ اینڈ روڈ“ کے بارے میں امریکا ‘یورپ‘جاپان اور کچھ دیگر ممالک اس تھیوری کو پھیلا رہے ہیں کہ بیجنگ اس منصوبے کودنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کررہا ہے.
چین کے اسی منصوبے پر گزشتہ ماہ جی سیون ممالک کے اجلاس میں بھی بات ہوئی تھی جی سیون ممالک نے بھی ”بیلٹ اینڈ روڈ“ منصوبے کے جواب میں ایک بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ بنانے پر اتفاق کیا تھا البتہ یورپی یونین جاپان اور بھارت کے ساتھ پہلے ہی ٹرانسپورٹ، توانائی اور ڈیجیٹل منصوبوں میں معاونت کے لیے شراکت داری کے ایسے معاہدوں پر دستخط کر چکا ہے جو یورپ اور ایشیا کو ملا سکیں.
ٹوکیو اور نئی دہلی کو بھی چین کے بڑھتے اثر و رسوخ پر تشویش ہے دونوں ملکوں نے الزام عائدکیا ہے کہ چین غریب ملکوں کو اپنا مقروض کر رہا ہے چین نے 2013 سے اب تک 60 سے زائد ملکوں میں تعمیراتی منصوبے شروع کیے ہیں جن کے ذریعے وہ زمینی اور سمندری راستوں سے جنوب مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور افریقہ کو جوڑنا چاہتا ہے. بیجنگ ان الزامات کو مسترد کرتا ہے کہ وہ اس منصوبوں کے ذریعے اپنی طاقت بڑھانا چاہتا ہے چین کا موقف ہے کہ انفراسٹرکچر بنانے کا مقصد عام عوام کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے واضح رہے کہ پچھلے ماہ امریکا نے بھی اسی طرزکے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا جسے”بلڈ بیک بیٹر فار دا ورلڈ“کا نام دیا گیا ہے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے 12جون کو صدر جو بائیڈن نے کہاتھا کہ امریکاغریب اور ترقی پذیر ممالک میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے مالی طور پر ایسے منصوبے سامنے لائے گا جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا مقابلہ کر سکیں اس کا اعلان برطانیہ میں جی سیون کے شراکت داروں کے سامنے بھی کیا گیا بائیڈن انتظامیہ کے مطابق یہ منصوبہ روایات کی پاسداری، شفافیت اور استحکام بخشنے جیسے عوامل پر مبنی ہوگا.
بائیڈن انتظامیہ کا کہنا تھا کہ چین کے منصوبے کو بہتر معیار سے شکست دی جا سکتی۔

اپنے ماڈل پر اس اعتماد کے ساتھ اسے دنیا کے سامنے رکھا جائے گا کہ یہ منصوبہ مشترکہ روایات کا عکاس ہوگا چین کی جانب سے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ 2013 میں متعارف کرایا گیا تھا جس میں 70 ممالک میں تعمیری ڈھانچے اور ترقیاتی کاموں پر سرمایہ کاری کی جانی ہے یہ منصوبہ چین کی خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔امریکی انتظامیہ کے مطابق واشنگٹن کا منصوبہ جسے ”B3W“ کے مختصر نام سے پکارا جا رہا ہے میں نجی سیکٹر کے ذریعے دنیا بھر میں غریب اور ترقی پذیر ممالک میں تعمیری ڈھانچے اور سڑکوں پر کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جائے گی جس میں دنیا کے لیبر، ماحولیاتی اور شفافیت کے معیار کی بھی پاسداری کی جائے گی تاہم امریکہ کے اس منصوبے میں کس قدر سرمایہ کاری کی جائے گی اور اس کو کب مکمل کیا جائے گا اس بارے میں حتمی معلومات فراہم نہیں کی گئیں.

ولسن سینٹر کے کسنجر انسٹی ٹیوٹ آن چائنہ اینڈ یونائیٹڈ اسٹیٹس کے ڈائریکٹر رابرٹ ڈیلے کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت ایسے منصوبوں پر بھی قرض فراہم کیا گیا ہے جن کے لیے عالمی اداروں نے قرض فراہم کرنے سے انکار کیا تھا. رابرٹ ڈیلے نے کہا کہ اس لیے یہ اہم ہے کہ کیا اسے نئے منصوبہ میں مالی طور پر زیادہ خطرہ مول لیا جائے گا یا نہیں انہوں نے کہا کہ اگر ایسے منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے تو آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک ان پر اب تک سرمایہ کاری کر چکے ہوتے.