امریکی فوج کا طالبان کے ساتھ مل کر داعش کیخلاف کارروائی کا عندیہ

امریکی فوج کا طالبان کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ مل کر انسداد دہشت گردی کے لیے داعش کے خلاف فضائی کارروائیاں ممکن ہیں ، امریکی کمانڈر کابل کے ہوائی اڈے کی سیکورٹی اور شہریوں کے پرامن انخلا کے لیے حالیہ کچھ ہفتوں میں طالبان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں طالبان تبدیل ہوئے یا نہیں ابھی دیکھنا باقی ہے ، افغانستان میں پیش آنے والے تجربے کا مطالعہ اورتجزیہ کیا جائے گا ، امریکی فوج کوافغانستان سےاسٹریٹجک سبق سیکھنا ہوگا۔
ادھر افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت کے قیام کااعلان کل بعد نماز جمعہ متوقع ہے ، غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے دو طالبان ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان نے نئی حکومت کے حوالے سے مشاورت مکمل کرلی ہے اور ممکن ہے کہ کل بعد نماز جمعہ ایک تقریب میں حکومت کا اعلان کیا جائے۔

اسی طرح افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز نے طالبان رہنما کے حوالے سے اپنی خبر میں دعویٰ کیا کہ نئی حکومت کے قیام سے متعلق طالبان کی اعلیٰ قیادت کی مشاورت مکمل ہوگئی ہے اور جلد اس کا باضابطہ اعلان کردیا جائے گا ، نئے نظام میں ہیبت اللہ سربراہ ہوں گے جن کے ماتحت صدر یا وزیراعظم ہوگا جو ملک چلائے گا۔

اس ضمن میں طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے بتایا کہ طالبان کے رہنما ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ نئی حکومت کے بھی سربراہ ہوں گے، نئی حکومت سے متعلق مشاورت مکمل ہوگئی ہے ، کابینہ کے ارکان سے متعلق بھی ضروری بات چیت کی جاچکی ہے ، ہم جس اسلامی حکومت کا اعلان کریں گے وہ لوگوں کیلئے ایک ماڈل ہوگی، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ حکومت کا حصہ ہوں گے، وہ نئی افغان حکومت کے سربراہ ہوں گے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔