کسانوں کا پورے بھارت میں مودی سرکار کے خلاف نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان

لاکھوں بھارتی کسانوں نے مودی سرکار کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے جس سے اگلے چند ماہ میں ہونے والے مختلف ریاستوں کے انتخابات میں بی جے پی اور اتحادیوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے. بھارتی ریاست اترپردیش میں لاکھوں کسانوں نے نریندر مودی کی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف شدید احتجاج کیا اور ایک بڑی ریلی نکالی ذرائع ابلاغ کے مطابق مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ مظفرنگر شہر میں نکالی گئی ریلی میں 5 لاکھ سے زائد کسانوں نے شرکت کی جبکہ کسان راہنماﺅں کا دعوی ہے کہ ریلی میں 25سے30لاکھ افراد شریک تھے .

مشہور کسان رہنما راکیشن ٹیکیٹ نے کہا کہ 24 کروڑ آبادی کی حامل زرعی ریاست اترپردیش میں احتجاج تحریک تازہ ہوا کا جھونکا ہے انہوں نے کہا کہ ہم اترپردیش کے تمام شہروں اور قصبوں میں جا کر احتجاج کریں گے اور پیغام پہنچائیں گے کہ نریندر مودی کی حکومت کسان مخالف ہے انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں مودی سرکار کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جائے گی جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی دلال مودی سرکارکے خاتمے تک جاری رہے گی.
بھارت میں گزشتہ 8 ماہ کے دوران دارالحکومت نئی دہلی میں ہزاروں کسان احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں جو ان قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسی طرح یہ بھارت میں کسانوں کا طویل احتجاج ہے یاد رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں بھارتی حکومت نے قوانین متعارف کروائے تھے جس کے تحت کسانوں کو اپنی پیداوار حکومتی سطح سے باہر ہول سیل مارکیٹ میں بڑے خریداروں کو براہ راست فروخت کرنی ہوگی.
حکومت کا کہنا تھا کہ اس سے کسانوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور انہیں اچھی قیمتیں ملیں گی دوسری جانب کسانوں کا موقف ہے کہ اس قانون سازی سے ان کی زندگی متاثر ہوگی اور وہ نجی سطح پر بڑے ریٹیلرز اور کھانے کی اشیا تیار کرنے والوں کے رحم و کرم پر ہوں گے بھارت میں زراعت ایک وسیع شعبہ ہے جس سے 1.3 ارب کی مجموعی آبادی کا نصف سے زائد حصہ منسلک ہے اور ملک کی معیشت کا 15 فیصد یعنی 2.7 کھرب ڈالر کا حصہ دار ہے.
کسان رہنما بلبیر سنگھ راجیوال کا کہنا تھا کہ یہ ریلی وزیراعظم مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے تنبیہ ہے کیونکہ وہ اترپردیش میں اگلے برس مقامی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیں گے اور وفاقی حکومت کی مقبولیت میں تنزلی آگئی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارا پیغام واضح ہے، قانون کو واپس لیں یا ریاستی انتخابات میں شکست کا سامنا کریں یاد رہے کہ 28 ستمبر 2020 کو بھارت کے صدر رام ناتھ کووند نے ملک بھر میں کسانوں کے شدید احتجاج کے باوجود زرعی بل پر دستخط کرکے قانون بنانے کی منظوری دے دی تھی.
کسانوں کا کہنا تھا کہ نئے قانون کو ان کی حیثیت کمزور کرکے ریٹیلرز کو قیمتوں میں اضافے کے اختیارات دیے جائیں گے کسانوں کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ تین میں سے ایک بل کے قانون بننے سے حکومت کے لیے ضمانتی قیمتوں پر گندم خریدنے کی شرط ختم ہوجائے گی اور اس سے ہول سیل مارکیٹ میں خلل آئے گا جہاں اب تک کسانوں کو شفاف اور وقت پر ادائیگیاں ہوتی ہیں.
بھارتی صدر رام ناتھ کووند کی منظوری کے بعد کسانوں کے احتجاج میں مزید شدت آگئی تھی اور رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ نریندر مودی پہلے ہی شمالی ریاست پنجاب سے اپنےقریبی اتحادی سے محروم ہو گئے ہیں جو بھارت کو گندم فراہم کرنے والی دو بڑی ریاستوں میں سے ایک ہے. اسی طرح بھارتی پنجاب میں کسانوں نے بااثر ووٹنگ بلاک بھی تشکیل دے دیا تھا رواں برس بھارت میں یوم جمہوریہ کی فوجی پریڈ کے کے دوران بھی ہزاروں بھارتی کسانوں نے نئی دہلی میں تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے شدید احتجاج کیا تھا اور تاریخی لال قلعے پر چڑھائی کر دی تھی جس کے بعد پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں.
پولیس نے مظاہرین کو پریڈ کا جائزہ لینے کے لیے موجود وزیراعظم نریندر مودی سے مظاہرین کو دور رکھنے کے لیے برسوں بعد ایک بہت بڑی کارروائی کی تھی پولیس نے شہر کے وسط میں رکاوٹیں کھڑی کی تھیں اور فوجی مشین گن لیے میٹرو ٹرین کے اطراف میں موجود رہے تھے ہزاروں بھارتی کسانوں نے آنسو گیس اور پولیس کی رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یوم جمہوریہ پر تاریخی لال قلعے پر چڑھائی کرکے اپنا پرچم لہرا دیا تھا کسانوں راہنماﺅں کا کہنا تھا کہ اس احتجاج میں 10ہزار سے زائد ٹریکٹر نے شرکت کی.