وفاقی کابینہ نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں بڑھانے کی سمری مسترد کر دی

وفاقی کابینہ نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ وفاقی کابینہ اجلاس میں 14 نکاتی ایجنڈا پر غور کیا گیا۔اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی سمر ی پر غور کیا گیا۔
چئیرمین و ڈپٹی چئیرمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈ ہاک الاؤنس اضافے کی تجویز دی گئی تھی۔اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کی تجویز دی گئی تھی تاہم وفاقی کابینہ نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی ہے۔علاوہ ازیں وفاقی کابینہ کو 20 ریگولیٹری اتھارٹیز کے چیئرمین اور ارکان کے معاوضوں پر رپورٹ پیش کی جائے گی، کابینہ نئی رویت ہلال کمیٹی کے لیے قانون سازی کی منظوری دے گی اور ہیوی کمرشل گاڑیوں پر ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹیز کم کرنے کی منظوری دے گی۔

اجلاس میں 14 اگست 2021 کو ایف بی آر ڈیٹا پر سائبر حملے کے تناظر میں آپریشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دی جائے گی جب کہ کابینہ پینل سرچارج کے خاتمے، نادرا ممبر کی تعیناتی، قائداعظم فاونڈیشن ایکٹ 2021 کی بھی منظوری دے گی جب کہ وفاقی کابینہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کرے گی۔ وفاقی کابینہ دیامر بھاشا ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کی منظوری دے گی اور کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے فیصلوں کی توثیق کی جائے گی جب کہ بیورو آف امیگریشن اور اوورسیز ایمپلائمنٹ کے ایمرگرینٹس پروٹیکٹر کے تبادلے کی منظوری، کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق بھی کابینہ ایجنڈا میں شامل ہے